Spread the righteous path of Quran and Hadith. we beleive the Quran and Hadith is the only solutions for Muslim Ummah for self re-construction. | more

Spread the righteous path of Quran and Hadith. we beleive the Quran and Hadith is the only solutions for Muslim Ummah for self re-construction. | more

 

 

 

 

﴾میڈیا کا دور اور مسلمانوں پر فضائی حملے﴿

قلم کاروں نے میڈیا کی تاریخ کے بارے میں لکھتے ہوئے فرمایاہے کہ اسکی تاریخ اسی قدر قدیم ہے جتنی کے خود انسانی تاریخ۔ ابتدائی دور میں لوگ آگ ۔ گانے بجانے کی چیزوں یا اپنے آپ کو اونچے مقام پر کھڑاکرکے اس مقصد کے لئے استعمال کیا کرتے تھے ۔ جوں جوں انسان ہوش وخرد کی سانس لیتارہا اسکے اندر تغیر آتارہا۔ زمانہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کی صورتیں اور شکلیں بھی تبدیل ہوتی رہی ہیں ۔
اسی طرح ابتدائی دور میں فتاوی یا اسلامی دعوت و تبلیغ کی نوعیت کچھ اور ہوا کرتی تھی اور آج کچھ اور ہے۔ زمانہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس سلسلہ میں بھی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ موجودہ دور کی نقل وحرکت پر اگر ہم نظر ڈالیں تو ہمیں اس بات کا احساس ہوجائیگاکہ جوسفر لکڑی ۔کھال ۔ہڈی یا کاغذکی پشت سے شروع ہوا تھا آج ہوا¶ں میں گھل مل کر ایسے انداز میں سفرکررہاہے کہ ہمیں نظر بھی نہیں آتا۔ دنیابھر میں پھیلاہوا ذرائع ابلاغ کا نیٹ ورک آج پوری دنیا کو مٹھی میں کرچکاہے وہ چاہے انٹرنیٹ کی شکل میں ہو یا ٹی وی کی ۔ آج مسائل کاحل جاننے کے لئے دارالافتاءکے چکر لگانے نہیں پڑتے بلکہ گھر بیٹھے اپنے کمپیوٹر۔ ٹی وی سیٹ ۔ یا اخبارات پر مسائل کے حل خود چل کر آپکے گھرپر دستک دیتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ آج جدید وسائل نے دینی معلومات کو اتناہی قریب کردیاہے جتناکہ آپکا ٹی وی سیٹ یا کمپیوٹر

ایک وہ دور تھا کہ جب علماءکرام سے لوگ اپنے دینی مسائل کا حل طلب کرتے ہوئے قدیم علماءکرام کے فتاوی کا تذکرہ کیاکرتے تھے ۔ کہاکرتے تھے کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا اس بارے میں یہ موقف ہے۔ شیخ ثناءاللہ امرتسری رحمہ اللہ نے اس بارے میں یہ لکھا ہے ۔ مولانامبارکپوری یا شیخ ابن باز رحمہہم اللہ نے اس بارے میں یہ فرمایا ہے۔ لیکن آج حالات بدل چکے ہیں اورمیڈیا کا بھوت سرچڑھ کر بول رہاہے ۔ ہم نے مشاہدہ کیا کہ آج علماءکرام کے پاس جب فون آتے ہیں اور اپنے مسائل کا حل طلب کیاجاتاہے ۔یا ای میل پر مسائل کے بارے میںگفتگو ہوتی ہے ۔تو کہا جاتاہے کہ ہم نے ٹی وی پر یہ سناہے ۔ ہم نے فلاں ملک کے فلاں چینل پر یہ سناہے آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟
گویا کہ ان چینل کو موجودہ دورمیں وہ مقام حاصل ہوگیاہے جوکہ کسی زمانہ میں علماءکرام کو ہواکرتاتھا یعنی انہیں مستندماناجانے لگاہے
اور چونکہ آج کا انسان اب ہرچیزکو آنا فانا حاصل کرنا چاہتا ہے اس لئے حکومتوں نے بھی ایسے شعبہ قائم کرنے میں خاصی مدد کی ہے جوکے انکے مقاصد تک پہنچنے میں معاون ومددگار ثابت ہوتے ہیں کائنات میں کہیں بھی کوئی چھوٹے سے چھوٹا یا بڑے سے بڑا و اقعہ ہوجائے تو پوری دنیامیں اسکے اچھے اور برے اثرات لمحات میں پھیل جاتے ہیں
ٹی وی اس ترقی یافتہ دورکی ایک ایسی ایجادہے جس نے اپنے وجود کا لوہا ہر خاص وعام سے منوالیاہے۔ آج یہ Idiot Box ہرگھرمیں موجود ہے ۔ اسے یوں تو ایڈیٹ بوکس کہاجاتاہے لیکن اس سے کام خوب لئے جاتے ہیں ۔ فلمیں۔ ڈرامیں ۔ ناچ گانے کے پروگرام ۔تفریحی پروگرام۔معلوماتی پروگرام حتی کہ اسلامی پروگرام بھی ناچ گانوں کی شکل میں ہی پیش کئے جارہے ہیں۔اس دنیامیں چندہی ایسے چینل ہیں جودین کے نام پر صرف دین ہی پیش کرتے ہوں اکثر چینلز کی حالت یہ ہے کہ اسلام کا نام لیکر لوگوں کو دھوکادے رہے ہیں اور اپنے جال میں پھانس رہے ہیں اور آج مسلمان اسکا مشاہدہ بڑی مسرت سے کر رہے ہیں اور اپنے مستقبل کو خود ہی تباہ بربادہوتے ہوئے دیکھ ر ہے ہیں

ہمارے ملک میں بلکہ پڑوسی ممالک میں بھی شرکیہ نظریات پر مبنی پروگراموں کو وہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے کہ شائد ہی کوئی گھرانا ایسا ہو جو انکے فتنہ سے محفوظ ہو۔ جو گھرانے خالص دین کے نام سے معروف ہیں وہ بھی آج اگر جمع ہوتے ہیں تو اسی idiot boxبوکس کے سامنے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ عرب ممالک میں ایک رپورٹ کے مطابق جسے فضیلہ الشیخ صالح اللحیدان نے بیان کیا صرف رمضان المبارک میں ۵۶ ملیون ڈالر ایک ماہ کے پروگرام کی تیاری میں صرف ہوتے ہیں۔ یہ ایک ماہ کی بات ہے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ باقی مہینوں میںکتنی بڑی رقم اس پرخرچ کی جاتی ہوگی

 

﴾2﴿

نجی ٹی وی چینلوں کے ذریعہ ہمارے ممالک میں جس فکر کو فروغ دی جارہی ہے وہ کسی پر مخفی نہیں۔ استخارہ کا نام لیکر کہانت پھیلائی جارہی ہے ۔ روحانی علاج کا نام لیکر شرک وبدعات کو فروغ دیاجارہاہے ۔ اعدادوشمار کے ماہرین اپنی قسمت سے باخبر نہیں دوسروں کی قسمت بیان کررہے ہیں اوراسی پر اکتفانہیں کینسر جیسی خطرناک بیماری کا علاج ایک شخص مغرب میں ٹی وی چینل پر بیٹھ کر مشرق میں فون اور ٹی کے کنشکشن پر علاج کررہاہے ۔ یہ افسوس کا مقام نہیں تو امت مسلمہ کے لئے اور کیاہے؟
گزشتہ ماہ ایک مشہور اسلامی چینل پر ایک روحانی ڈاکٹر ایک خاتون کی دل کی بیماری کا علاج اس طرح کرتاہے کہ جب اسکے پاس دوسرے ملک سے فون آتاہے اور خاتون دلکی دھڑکن کی شکایت کرتی ہے تو دنیانے دیکھا کہ موصوف ڈاکٹر صاحب نے اپنے ہاتھوں کو ہلاناشروع کردیا ۔ اور کچھ دیر بعد ہاتھوںکو ہلاتے ہلاتے بولتے ہیں کہ میں آپکے جسم کے اندر داخل ہوچکاہوں آپ حرکت نہ کریں اور مجھے خون کی صفائی کرنے دیں ۔ اور کچھ لمحات کے بعد ڈاکٹر صاحب آپریشن سے گویا جب فارغ ہوے تو فرماتے ہیں کہ میں نے تمہاری بیماری کا علاج کردیاہے اب تم بالکل تندرست ہوامت آج اس مقام پر ہے کہ سمجھ نہیں آتا کہ ہنسے یا ماتم کرے!

دوسری طرف دنیا کے تمام ممالک میں ٹی وی چینلوں نے بچوں سے لے کر بوڑھوں تک کے مزاج کو تبدیل کردیاہے کوئی معاشرہ ایسا نہیں جہاں اسکے برے اثرات نہ پائے جاتے ہوں! جائزہ نگاروں کا یہاں تک کہناہے کہ جنسی خواہشات کی ناجائزتکمیل کے واقعات۔ عصمت دری قتل اور دوسرے جرائم انہی چینلوں کے ذریعہ پنپ رہے ہیں
گیارہ ستمبر کے واقعات کو مسلسل کئی گھنٹے جن لوگوں نے دیکھا انہوں نے اسکے خلاف زیادہ سخت ردعمل کا اظہارکیا جبکہ نہ دیکھنے والوں نے اتنا نہیں کیا۔ گویاکہ جو چیز ہم دیکھتے ہیں اسکا اثر بہت زیادہ ہوتاہے بنسبت نہ دیکھنے والوں کے
اور شائد یہی وجہ ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رب العالمین سے طلب کیا تھا کہ انہیں دکھلادیاجائے کہ وہ مردوں کو زندہ کیسے کرتاہے تاکہ انہیںاطمئنان قلب حاصل ہوجائے
ہمارے لئے لمحہ فکریہ یہاں پر ہے کہ کیا ہمیں میڈیاکو اسلام کی نشرواشاعت کے سلسلہ میں استعمال نہیں کرناچاہئے ۔
شیخ عبدالعزیزبن باز رحمہ اللہ۔ علامہ البانی رحمہ اللہ وغیرہ کے فتاوی اس بارے میں واضح ہیں کہ مسلمانوں پر اس دور میں واجب ہے اسلام کی نشرواشاعت اخبارات ۔ ٹی وی چینل اور ریڈیو اور دوسرے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ کریں
گزشتہ چند ماہ قبل اردونیوز کے صفحات کے توسط سے یہ پیغام پوری دنیا نے پڑھا کہ امام حرم مکی شیخ عبدالرحمن سدیس عالم اسلام سے اپیل کررہے ہیں خطبہ جمعہ کے ذریعہ کہ ایسے ادارے قائم کئے جائیں جنکے ذریعہ اسلام کی نشرواشاعت کے لئے ٹی وی چینل وجود میں آئیں
ہمیں قرآن وسنت سے اس بات کا درس ملتاہے کہ ٹیکنولوجی کو اختیارکرنے میں کوئی قباحت نہیں ۔ بلکہ اللہ تعالی نے انسان کے ذہنی معیار کو مدنظررکھتے ہوئے ہی اپنے دین کی نشرواشاعت میں انبیاءعلیہم السلام کومعجزے بھی عطافرمائےحضرت موسی علیہ السلام کے دور کو لے لیجئے ۔ کیا اس وقت اللہ تعالی جدیدترین میزائل دے کر موسی علیہ السلام کی مددنہیں کرسکتاتھا؟ ہمارا ایمان ہے کہ بالکل کرسکتاتھا۔ لیکن اس نے ایسا نہ کرتے ہوئے موسی علیہ السلام کو لاٹھی کا معجزہ عطافرمایا کیونکہ اس دور میں لوگ جادو کے اس دور سے گزررہے تھے جسکا مشاہدہ شائد ہی دنیانے کیاہو۔ ویسے ماحول میں انہیں سمجھانے کے لئے انکے عقلی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا ہی معجزہ بھی عنایت کیاگیا اور نتیجہ میں وہ سارے جادوگر اللہ کے سجدے میں گرگئے
ذرا غور کیجئے جب دنیامیں بسنے والوں کے دلوں میں شرک نے جنم لیا تو اللہ رب العالمین نے توحید کی دعوت کے لئے انبیاءعلیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور انہیںتوحیدکی تعلیمات سے نوازا۔ اللہ تعالی نے صرف یہ نہیں فرمایا کہ زنا سے رک جا¶ بلکہ اللہ رب العالمین کو اس بات کا علم تھا کہ یہ انسان اس سے رک نہی پائیگا جب تک کہ اسکا نعم البدل نہ دیدیاجائے اور نتیجہ میں اللہ تعالی نے زناکو حرام کرتے ہوئے نکاح کورحمت کے طورپر حلال فرمایا۔ سود کی حرمت بیان ہوئی تو تجارت سے دولت کمانے کے مواقع پر کام کرنیکی ترغیب عنایت فرمائی۔ انسان کوگندگی سے بچاکر پاک اوصاف رہنے کا سلیقہ عنایت فرمایا۔ جہالت جیسی چیزکودورکرنے کے لئے اسکا نعم البدل تعلیم کے طورپر عطافرمایا۔ باپ دادا کی اندھی تقلیدسے یہ کہکربھی روکا جاسکتاتھاکہ اپنے خالق کی مان لو۔لیکن ذرا غور فرمائیے کہ بزرگوں کی تقلید کارد کرتے ہوئے اللہ رب العالمین نے اپنے آخری نبی محمد ﷺ کو مبعوث فرمایااور دنیاکو یہ سبق دیاکہ باپ داداکے مذاہب سے توبہ کرکے اس نبی مکرم ﷺ کے اسوءحسنہ کو اپنالو

 

﴾3﴿

قرآن وسنت میں ایسے واقعات بے شمار ہیں جنکاتذکرہ کرنایہاں مقصود نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ ہم لوگ اس ترقی یافتہ دورکے ان ایام سے گزررہے ہیں جہاں فتنے ہواﺅں میں گشت کررہے ہیں ۔ گلیوں میں فتنے پھیلاتے ہوئے انسان تو ہم دیکھ سکتے ہیں لیکن فضا¶ں میں محلول ہوکر جو پیغامات ہم تک پہنچ رہے ہیں کیا کبھی انکے بارے میں سوچاگیا ہے؟ آج ہمیں اسکی اہمیت کو سمجھنے اور اس ترقی یافتہ دور میں اس idiot box کے صحیح استعمال کی طرف لوگوں کو دعوت دینے کی ضرورت ہے۔ انسانوں کے عقلی معیار اور انکی ترقی کو مدنظررکھتے ہوئے اسی معیار کی بات کرنی ہوگی جس معیار کی بات وہ سننا پسندکرتے ہیں ایسے پروگرام بنانے کی ضرورت ہے جسے دیکھ کر لوگوں کے عقیدے درست ہوسکیں ۔ لوگوں کے دلوں سے اسلام دشمنی کاصفایاکرناہوگا۔ لوگوں کو مسلمانوں کی زندگی اور انکے اخلاق کے بارے میں بتاناہوگا کہ ایک مسلمان کسی کو نقصان نہیں پہنچاتااسکا وجود تو سراپاسلامتی کا پیغام ہے

مملکت سعودی عرب دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں اسلامی ٹی وی چینل کا نظریہ پیش کیاگیا۔ اور آج المجد ٹی وی کے نام سے عربی زبان میں پہلاٹی وی چینل ہے جو بغیر کسی موسیقی اور عورت کو زینت بنائے ترقی کی منزلوں کو طئے کررہاہے
یہاں کے علماءکرام کے خطبات خاص طورپر حج اور حرمین شریفین کے خطبات گھروں میں نشر کئے جاتے ہیں ۔ اور اللہ کے فضل و کرم سے بلاکسی تعصب کے پوری قوم ان سے مستفید ہورہی ہے
آج اردو زبان میں بھی ایسامعتدل مزاج رکھنے والا چینل درکارہے جوصرف مسلمانوں ہی کا ترجمان ہو۔ اور جہاں قرآن وسنت کے نام پر لوگوں کو دھوکا نہ دیاجاتاہو

اب ہمیں ایک ایسے چینل کیے لئے کام کرناہے جومعاشرہ سے بدعقیدگی اور فتنہ وفساد کو ختم کرنے میں ہماری اور ہمارے معاشرہ کی مددکرسکے ۔ آئیں ایک ایسے چینل کی تعمیرکے لئے کام کا آغاز کریں جو ہماری اپنی زبان میں دین کا داعی ہو۔سلامتی کا پیغام عام کرنیوالاہو ۔جسکا مشن محبت اور بھائی چارگی ہو۔نفرت اورکدورت کو ختم کرنے والاہو۔ جہالت اور گمراہی سے لوگوں کو آگاہ کرکے تعلیم دینے والا او صحیح مہنج پر تربیت کرنے والاہو۔

اللہ تعالی ہمیں اپنے دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطافرمائے



Mohammed Aqil,
Initiator and President Noor e Towheed (NTTV)
00966 504686317 (Jeddah)
Write email to me....

Upcoming Events
Click Here to info about upcoming Dawah events.

Scholors Biographies
Know about Salafi Scholors .

Scholor's Interviews
e Watch the world's well known Salafi Scholors Interviews.